حضرت عمر رضی الله عنہ کے قبول اسلام کا واقعہ 6 نبوی کا ہے، وہ حضرت حمزہ رضی الله عنہ کے صرف تین دن بعد مسلمان ہوئے تھے، قریش کے سربر آوردہ اشخاص میں ابوجہل اور حضرت عمر رضی الله عنہ اسلام اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دشمنی میں سب سے زیادہ سرگرم تھے، اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خصوصیت کے ساتھ ان ہی دونوں کے لئے اسلام کی دعا فرمائی۔
اللھم اعز الاسلام باحدالرجلین اما ابن ہشام واماعمر بن الخطاب
"اے اللہ! اسلام کو ابو جہل یا عمر بن الخطاب (رضی الله عنہ) سے معزز کر۔"
(جامع ترمذی، مناقب عمر)
اسی طرح طبرانی نے حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے اور حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
اَللھُمَّ اَعِزَّ الاِسلاَمِ بِاَحَبِّ الَّرجُلَینِ اِلَیکَ بعمر بن الخطاب اَو بِاَبِی جہل بن ہشام
"اے اللہ! عمر بن الخطاب (رضی الله عنہ) اور ابوجہل بن ہشام میں سے جو شخص تیرے نزدیک زیادہ محبوب ہے، اس کے ذریعے سے اسلام کو قوّت پہنچا۔"
مگر یہ دولت تو قسّام ازل نے حضرت عمر رضی الله عنہ کی قسمت میں لکھ دی تھی، ابوجہل کے حصہ میں کیونکر آتی؟ اس دعائے مستجاب کا اثر یہ ہوا کہ کچھ دنوں کے بعد اسلام کا یہ سب سے بڑا دشمن، اس کا سب سے بڑا دوست اور سب سے بڑا جاں نثار بن گیا، یعنی حضرت عمر رضی الله عنہ کا دامن دولت ایمان سے بھر گیا۔
ذٰلِکَ فَضْلُ اللہِ یُؤْتِیْہِ مَنْ یَّشَاءُ"
تاریخ و سیر کی کتابوں میں حضرت عمر کی تفصیلاتِ اسلام میں اختلاف ہے۔ ایک مشہور واقعہ جس کو عام طور پر ارباب سیر لکھتے ہیں، یہ ہے:
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت کے وقت حضرت عمر رضی الله عنہ کی عمر ستائیس سال تھی، حضرت عمر رضی الله عنہ اپنی تند مزاجی اور سخت خوئی کے لیے مشہور تھے، مسلمانوں نے طویل عرصے تک ان کے ہاتھوں طرح طرح کی سختیاں جھیلی تھیں۔
حضرت عمر رضی الله عنہ کی بہن فاطمہ رضی الله عنہا کا نکاح حضرت سعید بن زید رضی الله عنہ سے ہوا تھا جو اسلام قبول کر چکے تھے، حضرت فاطمہ رضی الله عنہا بھی اسلام قبول کر چکی تھیں، لیکن حضرت عمر رضی الله عنہ ابھی تک اسلام سے بیگانہ تھے، قبیلہ کے جو لوگ اسلام لا چکے تھے، حضرت عمر رضی الله عنہ ان کے دشمن ہو گئے، لبینہ رضی الله عنہا ان کے خاندان کی کنیز تھی جس نے اسلام قبول کرلیا تھا، اس کو بے تحاشہ مارتے، مارتے مارتے تھک جاتے تو کہتے کہ "دم لے لوں تو پھر ماروں گا"۔ لبینہ رضی الله عنہا کے علاوہ اور جس جس پر قابو چلتا اس کو خوب مارتے تھے، لیکن ایک شخص کو بھی وہ اسلام سے دل بر داشتہ نہ کرسکے، آخر مجبور ہو کر (نعوذ باللہ) خود حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قتل کا ارادہ کیا اور تلوار حمائل کرکے سیدھے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مکان کی طرف چلے۔
راستہ میں بنی زہرہ کے نعیم بن عبداللہ النّحام رضی الله عنہ سے ملاقات ہوئی، پوچھا "کدھر کا ارادہ ہے؟" جواب دیا کہ "محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فیصلہ کرنے جاتا ہوں" انہوں نے کہا: "محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو قتل کرکے بنو ہاشم اور بنو زہرہ سے کیسے بچ سکو گے؟"
حضرت عمر رضی الله عنہ نے کہا: "معلوم ہوتا ہے تم بھی اپنا پچھلا دین چھوڑ کر بے دین ہو چکے ہو"
نعیم بن عبداللہ رضی الله عنہ نے کہا: "عمر! ایک عجیب بات نہ بتا دوں؟ تمہاری بہن اور بہنوئی بھی تمہارا دین چھوڑ کر "بے دین" ہوچکے ہیں، پہلے اپنے گھر کی خبر لو۔"
یہ سن کے غصے سے بے قابو ہوگئے اور سیدھے بہن بہنوئی کا رخ کیا، وہاں انہیں حضرت خباب بن ارت رضی الله عنہ سورۂ طہٰ پر مشتمل ایک صحیفہ پڑھا رہے تھے اور قرآن پڑھانے کے لیے وہاں آنا جانا حضرت خباب رضی الله عنہ کا معمول تھا، بات یہ تھی کہ جب کوئی محتاج شخص مسلمان ہوتا تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسے کسی آسودہ حال صحابی کے سپرد کر دیتے تاکہ اس کی ضروریات کی کفالت کرے، اُم انمار کے غلام حضرت خبّاب بن ارت رضی الله عنہ ایمان لائے تو انہیں حضرت سعید بن زید رضی الله عنہ کے سپرد کیا گیا، یہ دونوں حضرت خبّاب بن ارت رضی الله عنہ ہی سے قرآن سیکھ رہے تھے۔
جب حضرت خباب رضی الله عنہ نے حضرت عمر رضی الله عنہ کی آہٹ سنی تو گھر کے اندر چھپ گئے، ادھر حضرت عمر رضی الله عنہ کی بہن فاطمہ رضی الله عنہا نے صحیفہ چھپا دیا، لیکن حضرت عمر رضی الله عنہ گھر کے قریب پہنچ کر حضرت خباب رضی الله عنہ کی قراءت سن چکے تھے، چنانچہ پوچھا، "یہ کیسی دھیمی دھیمی آواز تھی جو تم لوگوں کے پاس میں نے سنی تھی؟"
انہوں نے کہا: "کچھ بھی نہیں، بس ہم آپس میں باتیں کر رہے تھے۔" حضرت عمر رضی الله عنہ نے کہا: "غالباً تم دونوں بے دین ہوچکے ہو۔"
بہنوئی نے کہا: "اچھا عمر! یہ بتاؤ اگر حق تمہارے دین کے بجائے کسی اور دین میں ہو تو؟"
حضرت عمر رضی الله عنہ کا اتنا سننا تھا کہ اپنے بہنوئی پر چڑھ بیٹھے اور انہیں بری طرح کچل دیا، ان کی بہن نے لپک کر انہیں اپنے شوہر سے الگ کیا تو بہن کو ایسا چانٹا مارا کہ چہرہ خون آلود ہوگیا۔
بہن نے جوش غضب میں کہا: "عمر! اگر تیرے دین کے بجائے دوسرا ہی دین برحق ہو تو؟ ''أشھد أن لا الٰہ الا اللہ وأشھد أنَّ محمدًا رسول اللہ '' میں شہادت دیتی ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں اور میں شہادت دیتی ہوں کہ محمد اللہ کے رسول ہیں۔"
یہ سن کر حضرت عمر رضی الله عنہ پر مایوسی کے بادل چھا گئے اور انہیں اپنی بہن کے چہرے پر خون دیکھ کر شرم و ندامت بھی محسوس ہوئی، کہنے لگے: "اچھا یہ کتاب جو تمہارے پاس ہے ذرا مجھے بھی پڑھنے کو دو۔"
بہن نے کہا: "تم ناپاک ہو، اس کتاب کو صرف پاک لوگ ہی چھو سکتے ہیں، اٹھو غسل کرو۔" حضرت عمر رضی الله عنہ نے اٹھ کر غسل کیا، پھر کتاب لی اور پڑھی، کہنے لگے: "یہ تو بڑے پاکیزہ نام ہیں" اس کے بعد سے (۲۰: ۱۴) تک قراءت کی، کہنے لگے: "یہ تو بڑا عمدہ اور بڑا محترم کلام ہے، مجھے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا پتہ بتاؤ۔"
حضرت خباب رضی الله عنہ حضرت عمر رضی الله عنہ کے یہ فقرے سن کر اندر سے باہر آگئے، کہنے لگے: "عمر! خوش ہو جاؤ، مجھے امید ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جمعرات کی رات تمہارے متعلق جو دعا کی تھی (کہ اے اللہ! عمر بن خطاب یا ابو جہل بن ہشام کے ذریعے اسلام کو قوت پہنچا) یہ وہی ہے اور اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کوہ صفا کے پاس حضرت ارقم کے مکان میں تشریف فرما ہیں۔"
یہ سن کر حضرت عمر رضی الله عنہ نے اپنی تلوار حمائل کی اور اس گھر کے پاس آکر دروازے پر دستک دی، ایک آدمی نے اٹھ کر دروازے کی دراز سے جھانکا تو دیکھا کہ عمر تلوار حمائل کیے موجود ہیں، لپک کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اطلاع دی اور سارے لوگ سمٹ کر یکجا ہوگئے۔
حضرت حمزہ رضی الله عنہ نے پوچھا: "کیا بات ہے؟"
لوگوں نے کہا: "عمر ہیں۔"
حضرت حمزہ رضی الله عنہ نے کہا: "بس! عمر ہے، دروازہ کھول دو، اگر وہ خیر کی نیت سے آیا ہے تو بہتر ہے اور اگر کوئی برا ارادہ لے کر آیا ہے تو اسی کی تلوار سے اس کا سر قلم کر دوں گا۔"
ادھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اندر تشریف فرما تھے، آپ پر وحی نازل ہورہی تھی، وحی نازل ہوچکی تو حضرت عمر رضی الله عنہ کے پاس تشریف لائے، بیٹھک میں ان سے ملاقات ہوئی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے کپڑے اور تلوار کا پرتلا سمیٹ کر پکڑا اور سختی سے جھٹکتے ہوئے فرمایا: "عمر! کیا تم اس وقت تک باز نہیں آؤ گے جب تک اللہ تعالیٰ تم پر بھی ویسی ہی ذلت ورسوائی اور عبرتناک سزا نازل نہ فرمادے، جیسی ولید بن مغیرہ پر نازل ہو چکی ہے؟"
حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پرجلال آواز نے ان کو کپکپا دیا، نہایت خشوع و خضوع کے ساتھ عرض کیا: "ایمان لانے کے لئے" اور فوراً کلمہ شہادت پڑھ لیا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بے اختیار اللہ اکبر پکار اٹھے اور ساتھ ہی تمام صحابہ نے مل کر اس زور سے اللہ اکبر کا نعرہ لگایا کہ مکہ کی تمام پہاڑیاں گونج اٹھیں۔
یہی روایت تھوڑے سے تغیر کے ساتھ دارقطنی، ابویعلیٰ، حاکم اور بیہقی میں حضرت انس سے مروی ہے، ان روایتوں کے علاوہ مسند ابن حنبل میں ایک روایت خود حضرت عمر رضی الله عنہ سے مروی ہے جو گو ایک تابعی کی زبان سے مروی ہے، تاہم اس باب میں سب سے زیادہ محفوظ ہے، حضرت عمر رضی الله عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شب میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو چھیڑنے نکلا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بڑھ کر مسجد حرام میں داخل ہوگئے اور نماز شروع کردی، جس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سورۂ الحاق تلاوت فرمائی، میں کھڑا سنتا رہا اور قرآن کے نظم واسلوب سے حیرت میں تھا، دل میں کہا: "جیسا قریش کہا کرتے ہیں خدا کی قسم! یہ شاعر ہے، " ابھی یہ خیال آیا ہی تھاکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت پڑھی
*اِنَّہٗ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ کَرِیْمٍ O وَّمَا ہُوَبِقَوْلِ شَاعِرٍ O قَلِیْلًا مَّا تُؤْمِنُوْنَ O*
*"یہ ایک بزرگ قاصد کا کلام ہے اور یہ کسی شاعر کا کلام نہیں، تم بہت کم ایمان رکھتے ہو۔
میں نے کہا: "یہ تو کاہن ہے، میرے دل کی بات جان گیا ہے، " اس کے بعد ہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت پڑھی
*وَلَا بِقَوْلِ کَاہِنٍ O قَلِیْلًا مَّا تَذَکَّرُوْنَ O تَنْزِیْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَ O*
یہ کاہن کا کلام بھی نہیں، تم بہت کم نصیحت پکڑتے ہو، یہ تو جہانوں کے پروردگار کی طرف سے اترا ہے۔
آپ نے یہ سورۃ آخر تک تلاوت فرمائی اور اس کو سن کر اسلام میرے دل میں پوری طرح گھر کرگیا۔ (مسند ابن حنبل، ج۱ : ۱۷)
اس کے علاوہ صحیح بخاری میں خود حضرت عمر رضی الله عنہ کی زبانی یہ روایت ہے کہ بعثت سے کچھ پہلے یا اس کے بعد ہی وہ ایک بت خانہ میں سوتے تھے کہ انہوں نے دیکھا کہ ایک بت پر ایک قربانی چڑھائی گئی اور اس کے اندر سے آواز آئی: "اے جلیج! ایک فصیح البیان کہتا ہے O لاَ اِلٰہَ اِلاَّاللہ O اس آواز کا سننا تھا کہ لوگ بھاگ کھڑے ہوئے، لیکن میں کھڑا رہا کہ دیکھوں اس کے بعد کیا ہوتا ہے کہ پھر وہی آواز آئی، اس واقعہ پر تھوڑے ہی دن گزرے تھے کہ لوگوں میں چرچا ہوا کہ یہ نبی ہیں۔
اس روایت میں اس کا بیان نہیں ہے کہ اس آواز کا حضرت عمر رضی الله عنہ پر کیا اثر ہوا؟
پہلی عام روایت بھی اگر صحیح مان لی جائے تو شاید واقعہ کی ترتیب یہ ہوگی کہ اس ندائے غیب پر حضرت عمر رضی الله عنہ نے لبیک نہیں کہا اور اس کا کوئی تعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت کی بشارت سے وہ نہ پیدا کرسکے کہ اس میں ان کی رسالت اور نبوت کا کوئی ذکر نہ تھا، تاہم چونکہ توحید کا ذکر تھا، اس لئے ادھر میلان ہوا ہوگا، لیکن چونکہ ان کو قرآن سننے کا موقع نہیں ملا، اس لئے اس توحید کی دعوت کی حقیقت نہ معلوم ہوسکی۔
اس کے بعد جب انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سورۃ الحاقہ جس میں قیامت اور حشر ونشر کا نہایت موثر بیان ہے، نماز میں پڑھتے سنی تو ان کے دل پر ایک خاص اثر ہوا جیسا کہ اس فقرے سے ظاہر ہوتا ہے۔
"وقع الاسلام فی قلبی کل موقع ''
''یعنی اسلام میرے دل میں پوری طرح بیٹھ گیا"
تاہم چونکہ وہ طبعاً مستقل مزاج اور پختہ کار تھے، اس لئے انہوں نے اسلام کا اعلان نہیں کیا، بلکہ اس اثر کو شاید وہ روکتے رہے، لیکن اس کے بعد جب ان کی بہن کا واقعہ پیش آیا اور سورۂ طہٰ پر نظر پڑی، جس میں توحید کی نہایت مؤثر دعوت ہے تو دل پر قابو نہ رہا اور بے اختیار کلمہ توحید پکار اٹھے اور در اقدس پر حاضری کی درخواست کی۔
اور اگر وہ پہلی روایت صحیح تسلیم نہ کی جائے تو واقعہ کی سادہ صورت یہ ہوسکتی ہے کہ اس ندائے غیب نے ان کے دل میں توحید کا خیال پیدا کیا، لیکن چونکہ تین برس دعوت محدود اور مخفی رہی تھی، اس لئے ان کو اس کا حال نہ معلوم ہوسکا اور مخالفت کی شدت کے باعث کبھی خود بارگاہ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں جانے اور قرآن سننے کا موقع نہ ملا، پھر جب رفتہ رفتہ اسلام کی حقیقت کی مختلف آوازیں ان کے کانوں میں پڑتی گئیں تو ان کی شدت کم ہوتی گئی، بالآخر وہ دن آیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زبان مبارک سے ان کو سورۃ الحاقہ سننے کا موقع ملا اور وہ لبیک کہتے ہوئے اسلام کے آستانہ پر حاضر ہوگئے۔
==================> جاری ہے ۔۔۔

0 Comments
Thank You, Informative